کھیلوں کی دنیا

بوسٹن میراتھون میں پاکستان اور بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے 12 سے زائد رنرز شرکت کریں گے

پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے ایک درجن سے زائد رنرز پیر کو بوسٹن میراتھون کے 130ویں ایڈیشن میں شرکت کریں گے۔

بوسٹن میں ہونیوالی یہ دوڑ دنیا کی قدیم ترین سالانہ میراتھون ہے جو روایتی طور پر پیٹریاٹس ڈے کے موقع پر منعقد کی جاتی ہے۔ اس کا راستہ ہوپکنٹن سے شروع ہو کر بوئلسٹن اسٹریٹ تک جاتا ہے اور اختتام بوسٹن کے تاریخی مقام کوپلی اسکوائر کے قریب ہوتا ہے۔

اس سال ایک سو سینتیس ممالک سے 30 ہزار سے زائد رنرز اس ایونٹ میں حصہ لے رہے ہیں جن میں سے 24 ہزار سے زائد نےکوالیفائنگ وقت کی بنیاد پر جگہ حاصل کی۔

پاکستانی دستے میں کراچی سے تعلق رکھنے والے پولیس کانسٹیبل امجد علی نمایاں ہیں جنہوں نے کراچی میراتھون کی کارکردگی کی بنیاد پر بوسٹن میراتھون کیلئے کوالیفائی کیا اور اب امجد علی بوسٹن میراتھون میں اپنا پرسنل بیسٹ دینے کیلئے پر عزم ہیں۔

امجد علی دو ہزار چوبیس میں ترکیے میں ہونے والی استنبول میراتھون میں بھی پاکستان کے تیز ترین رنر رہے تھے اور انہوں نے اپنی تیاری کراچی کی سڑکوں پر کی۔ انہوں نے کہاکہ “میں نے کراچی کی سڑکوں پر سخت تربیت کی اور اس میراتھون کیلئے بھرپور محنت کی ہے، مجھے اپنے ساتھیوں اور خاص طور پر ایس وی آر سی کے دوستوں کی بھرپور سپورٹ حاصل رہی۔”

امجد علی نے بتایا کہ وہ پہلے فٹبالر تھے، بعد ازاں انہوں نے طویل فاصلے کی دوڑ کا رخ کیا اور کوچ طالب کے زیرِ تربیت کراچی ہاکی کلب کے اطراف میں مشق کی۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے میکسلوفیشل سرجن اور سماجی کارکن ڈاکٹر جہانزیب مغل بھی اس دوڑ میں شرکت کر رہے ہیں اور بوسٹن میں اپنا چھٹا ورلڈ میجر اسٹار حاصل کریں گے۔

ڈاکٹر جہانزیب مغل کا کہنا تھا کہ ان کا بنیادی ہدف یہی ہے کہ وہ بغیر کسی انجری کے میراتھون مکمل کریں تاہم یہ ان کیلئے ایک بڑے مقصد کی علامت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے میراتھون کے سفر کو کراچی میں ایک مفت اورل کینسر کے آپریشن یونٹ کے قیام اور اس کی معاونت سے جوڑا ہے جہاں مارچ دو ہزار تئیس سے اب تک چار سو پچاس سے زائد مفت آپریشن کیے جا چکے ہیں۔

بوسٹن میراتھون دو ہزار چھبیس میں پاکستان اور بیرونِ ملک کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے 14 رنرز شرکت کر رہے ہیں، جن میں عامر بٹ (امریکا)، بلال احسان (اسلام آباد)، ڈاکٹر جہانزیب مغل (کراچی)، ڈاکٹر سلمان خان (امریکا)، حمید بٹ (لاہور)، جمال خان (امریکا)، ماہین شیخ (برطانیہ)، محمد امجد (سندھ، پاکستان)، محمد فصیح صالح (ناروے)، نزار نیانی (امریکا)، نوشیروان علی (کراچی)، شہزادہ حسین (برطانیہ)، سید حمزہ (امریکا) اور شیری انجم (امریکا) شامل ہیں۔

پاکستانی رنرز کی بوسٹن میراتھون میں شرکت اس بات کی عکاس ہے کہ ملک میں محدود سہولیات کے باوجود میراتھون رننگ کا رجحان بڑھ رہا ہے اور پاکستانی رنرز عالمی سطح پر اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button