ٹاپ نیوز

نیو انرجی وہیکل پالیسی وقت کی ضرورت اور ماحول دوست اقدامات کی جانب اہم پیش رفت ہے، دوست ممالک ماحولیاتی تبدیلیوں سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے میں مدد کریں، وزیراعظم شہباز شریف کا نیو انرجی وہیکل پالیسی کی افتتاحی تقریب سے خطاب

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نیو انرجی وہیکل پالیسی کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پالیسی حکومت کے ماحول دوست اقدامات کی جانب اہم پیش رفت ہے، پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے، ای وی پالیسی سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے میں مدد ملے گی، دوست ممالک اور مغربی دنیا ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کریں، طلباء و طالبات کو میرٹ پر الیکٹرک بائیکس فراہم کئے جا رہے ہیں۔ ملک بھر کے طلباء کو قابلیت کی بنیاد پر ایک لاکھ لیپ ٹاپس دیٔے جائیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو یہاں نیو انرجی وہیکل پالیسی کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزراء ہمایوں اختر، رانا تنویر حسین، مختلف ممالک کے ہائی کمشنرز اور اعلیٰ سفارتی حکام کے علاوہ ملک بھر سے نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات موجود تھے۔ وزیراعظم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزارت صنعت کی نیو انرجی وہیکل پالیسی کو سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ نئی پالیسی حکومت کے ماحول دوست اقدامات کی جانب اہم پیش رفت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ماحولیات کو متاثر کرنے میں کردار سب سے کم لیکن پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثرہ دس ممالک میں شامل ہے۔ انہوں نے پالیسی بنانے کیلئے معاونت پر تمام سٹیک ہولڈرز اوربرطانوی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں پاکستان میں بادل پھٹنے، شدید بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مالی و جانی نقصانات ہوئے، 2022ء میں سیلاب کے باعث 100 کے قریب انسانی جانوں کا ضیاع ہوا، لاکھوں ایکٹر پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، ہزاروں گھروں کو مکمل یا جزوی نقصان پہنچا اور 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ حالیہ سیلاب اور بارشوں میں 700 انسانی جانیں چلی گئیں، شمالی علاقوں میں کئی کئی خاندان لقمہ اجل بن گئے، گائوں مٹ گئے، یہ بہت بڑا چیلنج ہے جس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مغربی دنیا اور دوست ممالک پر زور دیا کہ وہ صورتحال سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کریں، انفراسٹرکچر کی بحالی میں پاکستان کو دوست ممالک کی مدد کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے تنہا نہیں نمٹ سکتا، مزید قرضوں اور مالیاتی دبائو کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں سے میرٹ اور قابلیت پر طلباء و طالبات کا انتخاب کرکے الیکٹرک بائیکس فراہم کئے گئے ہیں، بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے 10 فیصد اضافی کوٹہ رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ای وی پالیسی سے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملک بھر کے طلباء و طالبات کو قابلیت کی بنیاد پر ایک لاکھ لیپ ٹاپس دیئے جائیں گے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ اس پروگرام کا دائرہ وسیع کیا جائے اور 9 ارب کی بجائے آئندہ سال اس کیلئے زیادہ رقم مختص کی جائے تاکہ طلباء و طالبات کو حصول تعلیم میں مدد ملے اور وہ معاشرے کے کارآمد شہری بن سکیں۔ قبل ازیں وزیراعظم نے نیو انرجی وہیکل پالیسی کا افتتاح کیا اور ملک بھر سے تعلیمی میدان میں اہم کارکردگی دکھانے والے طلباء و طالبات میں الیکٹرک بائیکس کی چابیاں تقسیم کیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی انرجی وہیکل پالیسی انڈسٹری کی جدت میں اہم کردار ادا کرے گی، پالیسی کے تحت روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے، الیکٹرک وہیکل پالیسی کے باعث پٹرولیم کھپت میں نمایاں کمی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سبز انقلاب پاکستان کا روشن مستقبل ہے۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا کہ نئی انرجی وہیکل پالیسی کا اجراء خواب کو حقیقت میں بدلنے کا دن ہے، وزیراعظم کے وژن کے تحت ہماری مشترکہ کاوشیں ثمر آور ثابت ہوئیں، عالمی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے انرجی وہیکل پالیسی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صاف اور سرسبز ملک کے طور پر اپنی شناخت دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button