حکومت پیسہ نہ دےکم از کم حوصلہ افزائی تو کرے،گولڈ میڈلسٹ ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ

ایشین باڈی بلڈنگ چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیتنے والے پاکستان کے اعجاز احمد کا کہنا ہےکہ وہ اپنے اخراجات پر باڈی بناتے ہیں جس پرکافی پیسہ خرچ ہوتا ہے، حکومت انہیں پیسہ نہ دےکم از کم حوصلہ افزائی تو کرے۔
پشاور سے تعلق رکھنے والے باڈی بلڈر اعجاز احمد نے ایشین چیمپئن شپ کی ماسٹرکیٹگری میں شرکت کی اور گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔
جیو نیوز سےگفتگو میں اعجاز احمد نے بتایا کہ بنکاک میں ہونے والی چیمپئن شپ میں ان کی ناشتے پر بھارتی باڈی بلڈر سے ملاقات ہوئی۔ جب انہیں بتایا کہ پاکستان کے صرف 10 باڈی بلڈر آئے اور 5 گولڈ میڈل جیتے اور بھارت کے 62 ایتھلیٹس آئے اور صرف 4 گولڈ میڈل لیے تو وہ حیران و پریشان ہوگئے۔
اعجاز احمد نےکہا کہ اگر پاکستان کی 20 سے 25 رکنی ٹیم جاتی تو میڈلز کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہوتی۔ انہوں نےکہا کہ وہ اپنے اخراجات پر باڈی کو بناتے ہیں جس پر کافی پیسہ خرچ ہوتا ہے،حکومت انہیں پیسہ نہ دےکم از کم حوصلہ افزائی تو کرے۔
دوسری جانب کوئٹہ کے بلال احمد نے بھی ایشین چیمپئن شپ میں گولڈ میڈل جیتا۔
جیو نیوز سےگفتگو میں بلال احمد نےکہا کہ چیمپئن شپ کی تیاری کے لیے انہوں نے اپنی پسندیدہ اسپورٹس موٹر سائیکل فروخت کی جو ساڑے 4 لاکھ میں فروخت ہوئی اور ان پیسوں سے انہوں نے ایشین چیمپئن شپ کی تیاری کی اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔
انہوں نے بتایا کہ چیمپئن شپ کی تیاری آسان نہیں کئی دنوں تک بھوکا پیاسا رہنا پڑتا ہے، ڈائٹ پلان پر سختی سے عمل کرنا ہوتا ہے، کبھی کبھی بے ہوش بھی ہوجاتے ہیں لیکن صرف اس وجہ سے برداشت کرتے ہیں کہ انٹرنیشنل سطح پر ملک کا نام روشن کرسکیں تاہم جب گولڈ میڈل مل جاتا ہے تو کوئی حوصلہ افزائی تک نہیں کرتا۔