کاروباری

پاکستان قطر سے اضافی ایل این جی کی ترسیل مؤخر کرنیکی درخواست کریگا

اسلام آباد: اضافی ایل این جی کارگوز کے معاملے پر پاکستان قطر سے ترسیل مؤخر کرنے کی درخواست کرے گا، مؤخر شدہ کارگوز کو پاکستان 32-2031 میں حاصل کرے گا۔

پاکستان اگلے 5 سالوں میں یعنی 2030 تک ملک میں گیس کی کھپت میں بڑے پیمانے پر کمی کی وجہ سے قطر سے 177 ایل این جی کارگوز کی ترسیل مؤخر کرنے کی درخواست کرے گا۔

ان مؤخر شدہ کارگوز کو پاکستان 32-2031 میں حاصل کرے گا، اس اقدام سے 5.6 ارب ڈالر کے واجبات کو 2031 تک مؤخر کرنے میں مدد ملے گی، جو ایک ایل این جی سپلائی معاہدے کی ختم ہونے کی تاریخ ہے، دوسرا جی ٹی جی معاہدہ 2032 میں ختم ہو جائے گا۔

پیٹرولیم ڈویژن کے اعلیٰ حکام نے بتایا کہ حکام دوسری تجویز کے تحت قطر سے یہ بھی کہیں گے کہ وہ 2026 میں کم از کم اپنے دو ایل این جی کارگوز ہر ماہ بین الاقوامی مارکیٹ میں منتقل کر دے جس کا پاکستان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2025 سے 2030 تک، بجلی اور برآمدی شعبوں میں کھپت کم ہونے کی وجہ سے مجموعی طور پر 177 ایل این جی کارگوز اضافی ہو گئے ہیں۔ اگر فی کارگو کی لاگت پاکستانی روپے میں 9 ارب ہے اور امریکی ڈالر کی موجودہ قیمت 282 روپے لاگو کی جائے تو 177 ایل این جی کارگوز کی ڈالر میں کل لاگت 5.6 ارب ڈالر بنتی ہے۔

اگر قطر اگلے پانچ سالوں یعنی 2030 تک واجب الادا اضافی 177 ایل این جی کارگو کو موخر کرنے پر رضامند ہو جاتا ہے تو 5.6 ارب ڈالر کا یہ واجب الادا 2031-32 تک مؤخر کر دیا جائے گا۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button