عالمی بینک نے گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن فنڈ کے تحت پاکستان کے لئے 47.9 ملین ڈالر گرانٹ کی منظوری دے دی

عالمی بینک نے گلوبل پارٹنرشپ فار ایجوکیشن فنڈ کے تحت پاکستان کے لئے 47.9 ملین ڈالر گرانٹ کی منظوری دے دی ہے، گرانٹ کا مقصد پنجاب میں بچوں اور بچیوں کی پری پرائمری اور پرائمری سطح پرداخلوں و شمولیت کو بہتر بنانا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے پیرکوجاری بیان کے مطابق نئی معاونت سے پرائمری سطح پر تعلیمی نتائج کو بہتر بنانے اور ایلیمنٹری سطح پر تعلیمی معاونت کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
”گیٹنگ رزلٹس: ایکسیس اینڈ ڈیلیوری آف کوالٹی ایجوکیشن سروسز اینڈ سسٹم ٹرانسفارمیشن ان پنجاب پراجیکٹ” کے تحت ابتدائی تعلیم کو وسعت دینے، سکول سے باہر بچوں کو دوبارہ داخل کرانے، اساتذہ کی معاونت کو مضبوط بنانے اور تعلیمی شعبے کو ماحولیاتی تبدیلیوں اور ہنگامی حالات کے مقابلے کے لئے زیادہ مؤثر بنانے میں مدد ملے گی، منصوبہ سے انسانی سرمائے کو مضبوط بنانے اور شاکس(دھچکوں ) کے مقابلے میں مزاحمت بڑھانے میں مدد ملے گی۔
یہ اقدامات عالمی بینک گروپ کے دہرے مقاصد یعنی غربت کے خاتمے اور مشترکہ خوشحالی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے عین مطابق ہیں۔پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازار نے بتایا کہ یہ منصوبہ کم تعلیمی صلاحیت کوبہتربنانے اور پنجاب بھر میں معیاری تعلیم تک مساوی رسائی کو یقینی بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔
انہوں نے بتایا کہ منصوبہ سے بنیادی تعلیم کو مضبوط بناتے ہوئے نظام کی استعداد کار کو بڑھانے اور رویوں میں مثبت تبدیلی لا کر صوبے میں طویل المدتی انسانی سرمائے کی ترقی اور اقتصادی نمو کی راہ ہموارہوگی۔منصوبے کے تحت 40 لاکھ سے زائد بچوں کو براہِ راست فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جن میں 80 ہزار سکول سے باہر بچے، 30 لاکھ سے زائد وہ بچے جو محکمہ سکول ایجوکیشن میں زیر تعلیم ہیں، تقریباً 8 لاکھ 50 ہزار غیر رسمی شعبے کے بچے اور ایک لاکھ 40 ہزار خصوصی تعلیم کے اداروں میں زیر تعلیم خصوصی بچے شامل ہیں۔
اسی طرح منصوبہ سے ایک لاکھ سے زائد اساتذہ، سکول لیڈرز، والدین اور کمیونٹی ممبران کو بھی پیشہ وارانہ تربیت اور آگاہی مہمات کے ذریعے فائدہ پہنچے گا۔عالمی بینک کی پراجیکٹ ٹیم لیڈر عزہ فرخ نے بتایا کہ یہ منصوبہ حکومتِ پنجاب کے وسیع تعلیمی اصلاحاتی ایجنڈے سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصد ایک زیادہ مؤثر، جوابدہ اور شمولیتی تعلیمی نظام تشکیل دینا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منصوبہ سے حکومت کی تعلیمی شعبے میں گورننس، مینجمنٹ اور استعداد کار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی ۔ منصوبہ کے تحت سکول ایجوکیشن، خصوصی تعلیم اور غیر رسمی تعلیم کے محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر ، سکولوں کو بااختیار اور کمیونٹیز کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیاجائے گا۔