پاکستان کا یمن میں ا من اور سیاسی بحران کے حل کے لیے فوری اقدامات پر زور

پاکستان نے یمن میں امن کے لیے جاری اقوامِ متحدہ کی کوششوں کو تکلیف دہ حد تک سست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سنگین انسانی و سیاسی بحران کے حل کے لیے فوری اور جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔سلامتی کونسل میں خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے سیاسی رابطہ کار گل قیصر نے کہا کہ یمن میں بدامنی اور انسانی المیے کی موجودہ صورتحال مزید برداشت نہیں کی جا سکتی۔ اُنہوں نے کہا کہ یمن کے عوام مستقل تنازع نہیں، بلکہ امن، وقار اور سلامتی کا حق رکھتے ہیں۔انہوں نے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دسمبر 2023 میں طے پانے والے روڈ میپ پر عملدرآمد سست رفتاری کا شکار ہے، جو کہ باعث تشویش ہے۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے زیرِ قیادت امن عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے اور علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر سیاسی تصفیے، انسانی امداد اور پائیدار امن کے لیے تعاون پر آمادہ ہے۔انہوں نے یمن میں انسانی صورتحال کو حیران کن حد تک سنگین قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1 کروڑ 95 لاکھ افراد کو فوری امداد کی ضرورت ہے، جبکہ غذائی قلت، قابلِ علاج بیماریوں اور معاشی بدحالی نے بحران میں مزید اضافہ کیاہے۔