عالمی

الاسکا میں امریکی روسی صدور کی طے شدہ ملاقات پیوٹن کی فتح قرار

الاسکا میں امریکی روسی صدور کی طے شدہ ملاقات پیوٹن کی فتح قرار دی جا رہی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان جمعہ کو ایک سربراہی اجلاس میں ملاقات ہوگی، امریکی ریاست الاسکا میں شیڈول ملاقات میں یوکرین جنگ کے خاتمے پر گفتگو ہوگی۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ صدر پیوٹن سے ملاقات ابتدائی نوعیت کی ہوگی، جس میں روسی صدر کو جنگ ختم کرنے پر آمادہ کرنے اور یوکرین کے علاقوں کی واپسی کے تبادلے کی کوشش کریں گے، اگر پیوٹن معاہدے کی اچھی تجاویز پیش کرتے ہیں تو وہ پہلے یوکرینی صدر زیلنسکی سے بات کریں گے۔

دوسری طرف عالمی تجزیہ کاروں نے اس ملاقات کو روسی صدر کی فتح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ولادیمیر پیوٹن کو بغیر کسی پیشگی شرط، امریکا مدعو کیا جانا اُن کی جیت ہے، دونوں صدور کی اس ملاقات کے عالمی سیاست پر اثرات مرتب ہوں گے۔

چوں کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے، تو اس طرح یوکرین جنگ سے متعلق اگر کوئی مذاکراتی تصفیہ ہوتا بھی ہے تو اس کی پائیداری کے بارے میں خدشات فطری طور پر موجود رہیں گے۔


یوکرین امن مذاکرات سے کتنی توقع ہے، اس حوالے سے سینٹرل فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ امن معاہدوں سے شاذ و نادر ہی جنگیں ختم ہوتی ہیں، دوسری جنگ عظیم کے بعد سے صرف 16 فی صد بین الریاستی جنگیں امن تصفیہ میں ختم ہوئیں۔ تقریباً 21 فی صد کا اختتام ایک طرف سے فیصلہ کن فوجی فتح کے ساتھ ہوا، جب کہ دوسرے 30 فی صد کا اختتام جنگ بندی کے ساتھ ہوا، کیوں کہ متحارب فریقوں کو فوجی تعطل کا سامنا تھا لیکن وہ رسمی تصفیہ تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ اس کے علاوہ امن معاہدے عموماً ٹوٹ جاتے ہیں۔

تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا کہ یہ ایک عجیب صورت حال ہے کہ ٹرمپ اور پیوٹن کی ملاقات زیلنسکی اور یورپی اتحادیوں کے بغیر ہو رہی ہے، اور اس کے لیے انھیں امریکی سرزمین پر مدعو کیا گیا ہے، یعنی امریکا کا اُس زمین سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ موجودہ صورت حال ٹرمپ کی ممکنہ سفارتی جیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button