سندھ میں خواتین ورکرز کے ساتھ اور کس کو ای بائیکس ملیں گی؟

ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ نے خواتین کے ساتھ ساتھ اقلیتی محنت کشوں کو بھی ای بائیکس دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سیکریٹری رفیق قریشی نے کہا ہے کہ سندھ کی اقلیتی برادری کے لیے بڑی خوش خبری ہے، محکمہ ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ نے خواتین کے ساتھ اقلیتی برادری کے صنعتی محنت کشوں کو بھی الیکٹرک بائیکس دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سیکریٹری محنت رفیق قریشی نے کہا بورڈ کی منظوری سے ایس ای سی پی کی منظور شدہ شریعہ کمپلائنٹ سکوک بانڈز میں 3 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں تاکہ محنت کشوں کو مزید سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ حادثاتی ہیلتھ انشورنس اسکیم میں محنت کشوں کو سالانہ 7 لاکھ روپے کی ہیلتھ انشورنس کے ساتھ ملک کے 270 اسپتالوں میں علاج میسر ہوگا۔
فلیٹس کی بجائے ورکرز کے لیے مکمل سولرائزڈ گھر تعمیر کیے جائیں گے، ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ماتحت اسکولوں کو بھی سولرائز کیا جا رہا ہے، سال میں 2 باربچوں کو اسکول یونیفارم دیا جائے گا۔
سیکریٹری محنت رفیق قریشی نے مزید کہا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تمام شعبوں کو ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں، تاکہ محنت کشوں کو منصفانہ طور پر سہولیات فراہم کر سکیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر ڈیتھ گرانٹ کی رقم 7 سے 10 لاکھ اور شادی گرانٹ کی رقم 3 سے 5 لاکھ روپے کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا یہ اقدامات ورکرز ویلفیئر بورڈ سندھ کی جانب سے محنت کشوں کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے ایک نئی امید اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، جو نہ صرف محنت کش طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنائیں گے بلکہ تعلیم، رہائش، صحت اور توانائی کے شعبوں میں پائیدار ترقی کی راہ بھی ہموار کریں گے۔