کاروباری

’پرانے نظام سے فائدہ اٹھانے والے فیس لیس کسٹمز سسٹم کو ختم کرانا چاہتے ہیں‘

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا کہنا ہے کہ پرانے نظام سے فائدہ اٹھانے والے فیس لیس کسٹمز سسٹم کو بدنام کر کے ختم کرانا چاہتے ہیں۔

ترجمان ایف بی آر کے مطابق تجارت میں سہولت، انسانی مداخلت کم کرنے کیلئےفیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم کا دائرہ کار بڑھایا ہے فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم دسمبر 2024 میں شروع ہوا جس کے بعد پرانے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھانے والوں کے مفادات کو نئے نظام سے نقصان ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم کے تحت لگژری گاڑیوں کو بہت کم قیمت پر کلیئر کیا گیا، ایک لگژری گاڑی کو 17ہزار 635 روپےکی کم قیمت لگا کر نئے سسٹم کے تحت کلیئر کیا گیا، گاڑی کی قیمت 1کروڑ 5 لاکھ روپے لگائی گئی اور اس پر 4 کروڑ 72 لاکھ روپے ڈیوٹی اور ٹیکس وصول کیے گئے۔

 

ترجمان کے مطابق کسٹمز کی جانب سے تمام ایسی گاڑیوں کی اصل  قیمت لگائی گئی اور قومی خزانےکو کوئی نقصان نہیں ہوا، خبر میں لگژری گاڑیوں کی درآمد سے متعلق منی لانڈرنگ کا بےبنیاد الزام بھی لگایا گیا، لگژری گاڑیاں صرف بیرون ملک مقیم پاکستانی ہی گفٹ یا ٹرانسفرآف ریزیڈنس اسکیم کے تحت درآمد کر سکتے ہیں، استعمال گاڑیوں کی درآمد اسی طرز پر فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم کے رائج ہونے سے پہلے بھی ہوتی رہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ ایف بی آر فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ  سسٹم کی جانچ پڑتال اور آڈٹ خود کر رہا ہے نئے نظام کی خامیوں کی بروقت نشاندہی کر کے دور کرنے کیلئے آڈٹ خود کر رہے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button