کاروباری

پاکستان میں کیسٹر کی کاشت کے حوالے سے اہم فیصلہ

پاکستان میں کیسٹر کی منافع بخش کاشت کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیر صدارت بین الاقوامی ملٹی گروپ آف کمپنیز کے وفد کے ساتھ ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں کیسٹر کی کاشت کو خصوصی توجہ کا مرکز قرار دیا گیا، کیوں کہ یہ نہ صرف اقتصادی طور پر سودمند ہے بلکہ برآمدات کے لیے بھی بہت زیادہ امکانات رکھتی ہے۔

وفد نے پاکستان میں مختلف اعلیٰ منافع بخش فصلیں متعارف کروانے کی پیشکش کی، جن میں کیسٹر کو سب سے زیادہ موزوں اور منافع بخش قرار دیا گیا۔

رانا تنویر حسین نے کہا کہ کیسٹر ایک کم لاگت اور زیادہ پیداوار دینے والی فصل ہے جو پاکستان کے غیر زرخیز اور نیم بنجر علاقوں کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ فصل ان زمینوں میں بھی آسانی سے کاشت کی جا سکتی ہے جہاں دیگر روایتی فصلیں اگنا مشکل ہوتی ہیں، یوں یہ کسانوں کے لیے آمدنی کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔


ان کا کہنا تھا اس وقت کیسٹر کی مقامی منڈی میں قیمت 7000 روپے فی چالیس کلو ہے، جو روایتی فصلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ اس منصوبے میں شامل ایک چینی غیر منافع بخش ادارہ ہائبرڈ کیسٹر بیج فراہم کرے گا، جس سے موجودہ پیداوار 50 من فی ایکڑ سے بڑھ کر 100 من فی ایکڑ تک ہو جائے گی۔ کمپنی نے کسانوں کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کے تحت وہ مقررہ قیمت پر کسانوں کی تمام پیداوار خریدے گی، اس سے کسانوں کو مالی تحفظ بھی حاصل ہوگا۔

وفاقی وزیر کے مطابق وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق اس منصوبے کی مکمل سرپرستی کرے گی اور صوبائی محکمہ جاتِ زراعت کے ساتھ مل کر آگاہی مہمات اور بیج کی فراہمی کے اقدامات کرے گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان عالمی مارکیٹ میں کیسٹر آئل کی برآمدات کے میدان میں ایک مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے، کیوں کہ یہ آئل دوا سازی، کاسمیٹکس، لبریکنٹس اور بائیو فیول سمیت کئی صنعتوں میں استعمال ہوتا ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button