کاروباری

درسی کتب کے بحران کی بڑی وجہ کیا ہے؟ اہم انکشافات

اسکولوں کی دو ماہ کی چھٹیاں ختم ہوگئیں لیکن ہر سال کی طرح اس سال بھی سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتابوں کی چھپائی میں تاخیر کے سبب طلبہ کیلیے درسی کتب مارکیٹ میں دستیاب نہیں۔

والدین اپنے بچوں کا کورس پورا کرنے کیلیے بازاروں میں مارے مارے پھر رہے ہیں اور مہنگے داموں کتابیں خریدنے پر مجبور ہیں۔

اس حوالے سے اردو بازار ٹریڈز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ساجد یوسف نے درسی کتب کے اس خود ساختہ بحران کی اہم وجوہات بیان کیں۔

انہوں نے بتایا کہ بد قسمتی سے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ پر مافیا کا راج برقرار ہے، اس ادارے میں چند من پسند پرائیویٹ پبلشرز ہیں جن کو کتابیں چھاپنے کا ٹھیکہ دیا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ طاقتور مافیا گزشتہ 54 سال سے یہی کرتا چلا آرہا ہے یہ لوگ جان بوجھ کر وقت پر کتابیں مارکیٹ میں نہیں لاتے، ان کیخلاف آواز اٹھانے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

ساجد یوسف کا کہنا تھا کہ یہ مافیا کرپشن کرنے کیلیے سرکاری کتب کی چھپائی میں تاخیر اور نجی پبلشرز کو فائدہ پہنچانے کے لیے کم معیار والا کاغذ استعمال کرنے کے علاوہ کئی حربے استعمال کرتا ہے۔

کتابوں کی مہنگے داموں فروخت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خریدار کتابوں پر درج قیمت سے زیادہ پیسے ادا نہ کریں اگر کوئی دکاندار اس قمیت کو مٹا کر نئے ٹیگ کے ساتھ فروخت کر رہا ہے تو اس کی شکایت اردو بازار میں قائم ایسوسی ایشن کے دفتر میں کریں۔

 

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button