کیا ہوٹلوں میں گدھے کا گوشت کھلایا جارہا ہے؟ کھانے والے تذبذب کا شکار

راولپنڈی : گزشتہ دنوں ملک کے مختلف شہروں کے غیر قانونی سے ذبح خانوں سے بڑی مقدار میں گدھے کا گوشت برآمد ہونے کی خبروں کے بعد لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
اس خبر کے بعد سوشل میڈیا پر میمز کا طوفان امڈ آیا جس میں کہا گیا کہ اب لاہور کے بعد اسلام آباد کے شہری بھی گدھے کے گوشت سے ’لطف اندوز‘ ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ شہر کے معروف ریستورانوں اور ڈھابوں سے کھانا کھانے والے شہری اسی تذبذب کاشکار ہیں کہ کیا انہیں بھی یہ گوشت کھلا دیا گیا ہے؟
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام سرعام کی ٹیم نے پنجاب فوڈ اتھارٹی راولپنڈی کے عملے کے ساتھ مختلف ہوٹلوں اور ریستورانوں کا معائنہ کیا اور حقیقت جاننے کی کوشش کی۔
اس موقع پر ٹیم سرعام اور پی ایف اے نے باری باری ہوٹلوں اور ریستورانوں میں جاکر مالکان اور کھانا کھانے کیلیے وہاں موجود لوگوں سے گفتگو کی اور ان کے خیالات جاننے کوشش کی۔
اس دوران یہ بات سامنے آئی کہ خوش قسمتی سے کسی ہوٹل پر گدھے کے گوشت کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اس موقع پر وہاں موجود گوشت کی خریداری کی رسیدیں بھی چیک کی گئیں، البتہ کچھ ہوٹلوں پر گندگی اور صفائی کے ناقص انتظامات ضرور دیکھنے میں آئے۔
ہوٹلوں میں موجود شہریوں سے بات کی گئی تو کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہم پہلے پوچھ کر پھر کھانا کھاتے ہیں، تاہم لوگوں میں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں دھوکے سے گدھے کا گوشت نہ کھلا دیا جائے اس لیے وہ دال سبزی کھا کر اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔رنگون بیف پلاؤ کی شاپ کے معائنے کے دوران وہاں حفظان صحت کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی دیکھنے میں آئی جہاں صفائی ستھرائی کا شدید فقدان تھا، کھانوں میں استعمال ہونے والے مسالہ جات اور انہیں رکھنے کی جگہیں غلاظت سے اٹی ہوئی تھیں۔
یاد رہے کہ اسلام آباد کے ملحقہ علاقے ترنول کے ایک فارم ہاؤس میں قائم غیر قانونی ذبح خانے سے 900کلو گدھے کا گوشت برآمد ہوا ہے جبکہ 50 زندہ گدھے بھی تحویل میں لیے گئے تھے۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے مکورہ دھندے میں ملوث ایک غیر ملکی باشندے کو گرفتار کیا ہے۔