جب تک اسرائیلی قبضہ برقرار رہے، مزاحمت ہمارا قانونی حق ہے، حماس

حماس کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیلی قبضہ برقرار ہے مزاحمت کرنا ہمارا قانونی حق ہے۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق حماس نے اسلحہ ڈالنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا اسلحہ قومی و قانونی حق ہے اس سے دستبردار نہیں ہوسکتے۔
ترجمان حماس کا کہنا ہے کہ اسلحے سے صرف اس وقت دستبردار ہوں گے جب قومی حقوق مکمل بحال ہوں گے، مکمل خود مختار فلسطین ریاست کے قیام تک مزاحمت جاری رہے گی۔
حماس کا کہنا ہے کہ آزاد فلسطینی ریاست ہمارا بنیادی حق ہے اس سے دستبردار نہیں ہوں گے، امریکی ایلچی اسٹیووٹکوف کا اسلحہ ڈالنے کی آمادگی والا بیان بے بنیاد ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران اسلحہ چھوڑنے کی کوئی بات نہیں کی گئی، صیہونی قبضے کے خاتمے تک مزاحمت کا راستہ نہیں چھوڑیں گے۔
یہ پڑھیں: اسرائیل غزہ میں کب تک لڑائی جاری رکھے گا؟ اسرائیلی آرمی چیف کا بڑا اعلان
دوسری جانب اسرائیلی آرمی چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ 49 اسیر اب بھی غزہ میں موجود ہیں، غزہ میں موجود اسیروں میں صرف 22 زندہ ہیں، آئندہ دنوں میں معاہدے کی کامیابی واضح ہوجائے گی۔
اسرائیلی آرمی چیف نے کہا کہ جنگ بندی صرف اس وقت ممکن ہوگی جب اسیر رہا کیے جائیں گے، جنگ بندی مذاکرات ناکام ہوئے تو جنگ مزید تیز کردی جائے گی۔
دوسری جانب حماس نے اعلان کیا ہے کہ آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام تک مزاحمت جاری رہے گی، فلسطین کو آزادی ملنے تک ہتھیار ڈالیں گے نہ سر جھکائیں گے، مسلح جدوجہد قومی حقوق کی بحالی تک جاری رہے گی۔