پاکستان کی فارماسیوٹیکل صنعت کی تاریخی پیش رفت ، 2025 میں برآمدات میں 34 فیصد اضافہ

پاکستان کی دواسازی صنعت نے مالی سال 2025 میں غیر معمولی ترقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملکی تاریخ کا نیا سنگِ میل عبور کیا ہے۔ سال کے اختتام (30 جون 2025) تک دواسازی مصنوعات کی برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے بڑی شرح ہے۔رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی فارماسیوٹیکل برآمدات 457 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ اگر سرجیکل آلات، غذائی سپلیمنٹس اور میڈیکل ڈیوائسز جیسے "تھیراپیوٹک” مصنوعات کو بھی شامل کیا جائے تو مجموعی برآمدات 909 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں۔یہ پیش رفت پاکستان کو فارماسیوٹیکل شعبے میں خود کفالت کی راہ پر گامزن کر رہی ہے، جبکہ صنعت کو ملک کی پانچویں بڑی برآمدی صنعت کے طور پر مستحکم کر رہی ہے۔ فارماسیوٹیکل شعبہ نہ صرف ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے بلکہ جدید طبی سہولیات اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی کلیدی اہمیت کا حامل بنتا جا رہا ہے۔
اس نمایاں کامیابی کا کریڈٹ حکومت پاکستان کی حقیقت پسندانہ پالیسیوں، خصوصاً اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول، اور معقول قیمتوں کی پالیسی کو دیا جا رہا ہے۔پاکستان فارما مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے مطابق، غیر ضروری ادویات کی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن سے فارما کمپنیاں مہنگائی کے مطابق قیمتوں کا تعین کرنے، پیداواری صلاحیت بڑھانے، اور مارکیٹ میں ادویات کی دستیابی بہتر بنانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔پاکستانی دوا ساز مصنوعات کے بڑے خریدار ممالک میں افغانستان، فلپائن، سری لنکا، ازبکستان، اور عراق شامل ہیں۔
اس کے علاوہ، کینیا، ویتنام، میانمار اور تھائی لینڈ جیسی ابھرتی ہوئی منڈیاں پاکستانی کمپنیوں کے لیے نئی برآمدی راہیں فراہم کر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، پاکستانی فارماسیوٹیکل برآمدات آئندہ برسوں میں مزید ترقی کریں گی اور عالمی دواسازی مارکیٹ جو 2030 تک 1.5 ٹریلین ڈالر کی ہو سکتی ہے جن میں پاکستان کا حصہ بڑھے گا۔فی الوقت، پاکستانی فارما کمپنیوں کی آمدن کا 5 تا 7 فیصد حصہ برآمدات پر مشتمل ہے، جو زیادہ تر ایشیائی اور افریقی منڈیوں سے حاصل ہوتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ چونکہ چین اور بھارت جیسے ممالک اب تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی ) پر توجہ دے رہے ہیں، لہٰذا جنیرک ادویات کی عالمی طلب کا بڑا حصہ پاکستان پورا کر سکتا ہے۔حکومت کی مؤثر پالیسیوں، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب، اور مقامی صنعت کی صلاحیت نے پاکستان کی فارماسیوٹیکل انڈسٹری کو ایک فیصلہ کن مرحلے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ صنعت اب نہ صرف قومی معیشت کو تقویت دے رہی ہے بلکہ پاکستان کو صحت کے شعبے میں خود انحصاری کی جانب بھی پیش قدمی کرا رہی ہے۔