پاکستان کی معاشی بحالی حقیقی، مہنگائی 38 سے کم ہوکر3.2 فیصد پرآئی، اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ

اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کی معاشی بحالی حقیقی ہے، پاکستان کی معیشت کا سری لنکا سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔
جاری اعلامیے میں اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو سری لنکا کے ناکام ماڈل سے جوڑنا بےبنیاد ہے، پاکستان سری لنکا کی طرح اپنے زرمبادلہ ذخائر ضائع نہیں کررہا، پاکستان نے زرمبادلہ ذخائر کو قانونی طریقوں سے بڑھایا ہے۔
ای پی بی ڈی ٹی تھنک ٹینک نے کہا کہ 2023 میں پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 3 ارب ڈالرز تھے، 18 جولائی کو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 14 ارب 46 کروڑ ڈالرز ریکارڈ کیے گئے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان کی ترسیلات زر27 فیصد اضافے سے 38 ارب ڈالرز ریکارڈ کی گئیں، پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب 10 کروڑ ڈالرز سرپلس رہا، اسٹیٹ بینک نے 8 ارب ڈالرز مارکیٹ سے خریدے ہیں۔
ای پی بی ڈی ٹی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے ایکسچینج ریٹ کو مارکیٹ نرخ پر رکھتے ہوئے زرمبادلہ ذخائر بڑھائے، سری لنکا نے ایکسچینج ریٹ کو مصنوعی طریقے سے کنٹرول کرکے زرمبادلہ ذخائر بڑھائے۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ پاکستان نے بنیادی معاشی اصولوں پر سمجھوتا کیے بغیر مہنگائی کو کم کیا، پاکستان میں مہنگائی 38 فیصد سے کم ہوکر3.2 فیصد پر آچکی ہے۔
ای پی بی ڈی ٹی نے کہا کہ اگست2023 سے فروری 2024 تک کے نگراں دور میں ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، نگراں دور میں آئی ایم ایف اسٹینڈ بائی پروگرام پر عملدرآمد کیا گیا، پاکستان نے دسمبر 2024 تک آئی ایم ایف پروگرام کے 7 اہداف پورے کیے۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ مانیٹری پالیسی نے شرح سود 22 فیصد سے کم کرکے 11 فیصد کیا، پاکستان نے معاشی بحران پر انتہائی مؤثر انداز میں قابو پایا۔