کاروباری

ڈالر سستا ہوگا یا مہنگا؟ بڑی پیش گوئی سامنے آگئی

کراچی : ڈالر کی قیمت کے حوالے سے بڑی پیش گوئی سامنے آگئی ، اب قیمت اوپر جائے گی یا نیچے آئے گی۔

تفصیلات کے مطابق ڈالر کی قیمت اوپر جائے گی یا نیچے؟ یہ وہ سوال ہے جو آج ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ چاہے بات ہو درآمدات کی، مہنگائی کی یا بیرونی قرضوں کی واپسی کی ، ڈالر کا ریٹ معیشت کی سمت کا تعین کرتا ہے۔

حالیہ دنوں میں کرنسی مارکیٹ میں غیر معمولی ہلچل دیکھی گئی ہے، جس کے بعد ماہرین کی آراء بھی تقسیم ہو گئی ہیں، کچھ ماہرین ڈالر کی قدر میں کمی کی نوید سنا رہے ہیں، تو کچھ اس کی قیمت میں اضافے کی پیش گوئی کر رہے ہیں۔

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں کرنسی اسمگلنگ کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈالر کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی جا سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومتی اقدامات جاری رہے تو ڈالر کی قدر 280 سے کم ہو کر 270 روپے تک آ سکتی ہے۔

ملک بوستان نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں مارکیٹ میں ڈالر کی دستیابی محدود ہو گئی تھی، تاہم اب صورتحال بہتر ہو چکی ہے اور ایکسچینج کمپنیوں میں ڈالر با آسانی دستیاب ہوں گے۔

اس کے برعکس، ایک حالیہ مالیاتی سروے میں بعض تجزیہ کاروں نے خبردار کیا کہ اگر کرنسی پالیسیوں میں تسلسل نہ رہا تو روپے کی قدر دسمبر تک 300 روپے فی ڈالر تک گر سکتی ہے۔

تاہم، تجزیہ کاروں کی اکثریت کا کہنا ہے کہ کرنسی مارکیٹ مستحکم ہو رہی ہے اور دسمبر 2025 تک ڈالر 285 سے 290 روپے کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button