قومی

روالپنڈی میں جرگے کے حکم پر 19 سالہ سدرہ کے قتل کے شواہد جمع، 9 گرفتار

پنجاب میں جرگے کے حکم پر غیرت کے نام پر 19 سالہ لڑکی کے قتل کے سلسلے میں پولیس نے شواہد جمع کر لیے ہیں، اور 9 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطح تفتیشی ٹیم نے غیرت کے نام پر قتل ہونے والی انیس سالہ لڑکی سدرہ کے کیس میں تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جرگے اور قتل میں شریک سہولت کاروں نے اقبالی بیان بھی دے دیے، اور علاقہ مجسٹریٹ کے حکم پر کل قبر کشائی کی جائے گی، جس کے لیے قبرستان میں پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتول لڑکی کے شوہر ضیاءالرحمان اور اس کے سسر نے تحقیقات میں اہم انکشافات کیے ہیں، ملزمان کے موبائل فونوں سے اہم ڈیٹا اور شواہد بھی حاصل کر لیے گئے۔

پولیس کے مطابق مقدمے میں قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں، پولیس اور ریاست بھی اس کیس میں مدعی بن گئے ہیں، جب کہ مقدمے میں دہشت گردی کی دفعات شامل کرنے کے لیے قانونی رائے طلب کر لی گئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ راولپنڈی شہر میں جرگہ منعقد کر کے قتل کا حکم دینا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گرفتار ملزمان کا مزید جسمانی ریمانڈ لیا جائے گا۔

ادھر دوسرے کیس میں شکریال میں گزشتہ روز ایک اور سدرہ نامی خاتون کے قتل کا مقدمہ تھانہ صادق آباد میں اس کے شوہر کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے، جس کے مطابق مقتولہ سدرہ 3 بچوں کی ماں تھی، شوہر نے کہا اسے ایک عزیزہ نے فون پر اطلاع دی کہ بیوی کو مار دیا گیا ہے، واقعے سے قبل سدرہ نے بچوں کو ایک عزیزہ کے گھر چھوڑ دیا تھا، گھر پہنچا تو مرکزی دروازہ اندر سے بند تھا، اندر بیوی خون میں لت پت پڑی تھی، نامعلوم شخص نے گھر میں داخل ہو کر میری بیوی کو قتل کیا تھا۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button