قومی

دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار جاری

واپڈا نے دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار جاری کر دئیے ہیں۔ہفتہ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 3 لاکھ 13 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 57 ہزار 400 کیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 44 ہزار کیوسک اور اخراج 44 ہزار کیوسک، خیرآباد پل پر پانی کی آمد 2 لاکھ 63 ہزار 900کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 63 ہزار 900 کیوسک، دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد 29 ہزار 700 کیوسک اور اخراج7 ہزارکیوسک جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 61 ہزار 500 کیوسک اور اخراج 37 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

بیراج کی صورتحال میں جناح بیراج میں آمد 3 لاکھ 47 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 3 لاکھ 40 ہزار 500 کیوسک، چشمہ میں پانی کی آمد 4 لاکھ 24 ہزار 900 کیوسک اوراخراج 4 لاکھ 2 ہزار 500 کیوسک، تونسہ میں پانی آمد4 لاکھ 47 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 4 لاکھ 41 ہزار 400 کیوسک،گدو میں آمد 3 لاکھ 43 ہزار 400 کیوسک او ر اخر اج 3 لاکھ 3 ہزار 100 کیوسک، سکھر میں پانی کی آمد 3 لاکھ 300 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 42 ہزار 100 کیوسک، کوٹری میں پانی کی آمد ایک لاکھ 35 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 93 ہزار 800 کیوسک، تریموں میں پانی کی آمد 74 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 64 ہزار 300 کیوسک جبکہ پنجند میں پانی کی آمد 54 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 40 ہزار 400 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

اسی طرح تربیلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1534.00 فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550 فٹ اورآج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 4.823 ملین ایکڑ فٹ۔منگلا کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ،ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 1196.75 فٹ, ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242 فٹ اور آج قابل استعمال پانی ذخیرہ 4.055 ملین ایکڑ فٹ ہے

چشمہ کا کم از کم آپریٹنگ لیول638.15 ریزروائر میں پانی کی موجودہ سطح 641.00 فٹ،ریزروائر میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649.00 فٹ جبکہ آج قابل استعمال پانی کا ذخیرہ 0.043 ملین ایکڑ فٹ ہے۔تربیلا اور چشمہ کے مقامات پر دریائے سندھ، نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل اور منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد اور اخراج 24گھنٹے کے اوسط بہاؤ کی صورت میں ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button