ٹیکس نظام کی بہتری سے ملکی آمدن میں اضافہ اور عام آدمی پر ٹیکس کو بوجھ کم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے،وزیراعظم محمد شہبازشریف

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیکس نظام کی بہتری سے ملکی آمدن میں اضافہ اور عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے،ایف بی آر کی اصلاحات کے اطلاق میں کاروباری حضرات، تاجر برادری اور ٹیکس دہندگان کی سہولت کو مد نظر رکھا جائے۔ ان خیالات کا اظہارانہو ں نے بدھ کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے اکنامک افیئرز ڈویژن احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے قانون اعظم نذیر تارڑ،چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔وزیراعظم نے کہا کہ ایف بی آر کی اصلاحات سے ٹیکس نظام کی بہتری خوش آئند ہے، عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نظام کی تشکیل کےلئے معینہ مدت میں اقدامات یقینی بنائے جائیں، اہداف کا حصول مثبت ہے مگر مزید محنت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن سے اہداف کے حصول میں معاونت ملی، اسے مستقل بنیادوں پر پائیدار نظام بنانے کےلئے اقدامات یقینی بنائے جائیں،غیر رسمی معیشت کے سد باب کےلئے انفورسمنٹ کے حوالے سے مزید اقدامات کئے جائیں،ایف بی آر کے ڈیجیٹل ونگ کی ازسر نو تشکیل کےلئے جامع لائحہ عمل تشکیل دے کر اہداف کے حصول کے وقت کا تعین کیا جائے،ایف بی آر کی اصلاحات کے اطلاق میں کاروباری حضرات، تاجر برادری اور ٹیکس دہندگان کی سہولت کو مد نظر رکھا جائے ۔
وزیراعظم نے کہا کہ اصلاحاتی عمل میں تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت ان کی تجاویز کی شمولیت کو یقینی بنائے گی ،ٹیکس نظام کی بہتری سے ملکی آمدن میں اضافہ اور عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔اجلاس کو ایف بی آر کی اصلاحات، اقدامات کے نتائج اور گزشتہ مالی سال کے اہداف بارے بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر کے انفورسمنٹ اقدامات و دیگر اصلاحات کی بدولت 2024 کی نسبت 2025 میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح میں 1.5 فیصد کا تاریخی اضافہ ہوا،2024 کے مقابلے میں مالی سال 2025 میں 30 جون تک ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 45 لاکھ سے بڑھ کر 72 لاکھ سے تجاوز کر گئی،
ایف بی آر کے فیس لیس کسٹمز کلیئرنس سسٹم سے نہ صرف ٹیکس آمدن میں اضافہ ہوا بلکہ آئندہ3 ماہ تک کلیئرنس کا وقت 52 گھنٹے سے کم کرکے صرف 12 گھنٹے تک کردیا جائے گا،ریٹیل سیکٹر میں 2024 کی نسبت 30 جون 2025 تک آمدن پر ٹیکس کی مد میں 455 ارب روپے کا زائد ٹیکس وصول کیا گیا،ریٹیل شعبے کے ٹیکس میں اضافہ پوائنٹ آف سیلز کے اطلاق، ریٹیلرز کے سسٹم کو ایف بی آر سے ہم آہنگ کرنے اور انفورسمنٹ کی بدولت ممکن ہوا،فیس لیس سسٹم میں نظر ثانی کےلئے خصوصی نظام متعارف کروایا گیا ہے
جس میں ویڈیو لنک کے ذریعے کیسز کا بروقت فیصلہ کیا جارہا ہے،اقدامات کی بدولت درآمدات پر ویٹڈ ایوریج ٹیرف میں 2.16 فیصد کی کمی واقع ہوئی جس سے صنعتوں کے خام مال کی لاگت میں کمی اور مینو فیکچرنگ کےشعبے کو سہولت ملے گی ،ٹیکس اصلاحات اور معیشت کے شعبوں کی ڈیجیٹائزیشن میں بین الاقوامی ماہرین کی تجاویز کو بھی شامل کیا جائے گا،صنعتوں کے پیداواری مراحل کے حکومتی اداروں کے ساتھ اندراج کے لیے پہلے سے موجود ڈیٹا کو مزید بہتر انداز میں استعمال کیا جائے گا۔
اجلاس کو ایف بی آر کی مزید اصلاحات کے بارے تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیر اعظم نے ایف بی آر حکام اور اصلاحات کے عمل میں شامل افسران و اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا اور آئندہ ہفتے تجاویز کے حوالے سے قابل عمل اہداف اور مدت کا تعین کرکے پیش کرنے کی ہدایت کی ۔