ٹرمپ نے جوہری توانائی کاروبار کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری توانائی کاروبار کے لیے کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔
واشنگٹن میں اے آئی سمٹ سے خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ محفوظ اور پائیدار ایٹمی توانائی کی صنعت کاروبار کے لیے کھول رہے ہیں، تیل کی قیمت بھی مزید نیچے لانا چاہتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ بائیڈن انتظامیہ نے گرین انرجی کے نام پر امریکا کے ساتھ فراڈ کیا۔
امریکی ڈیجیٹل میڈیا پولیٹیکو نے اس حوالے سے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریپبلکنز نے سابق صدر جو بائیڈن کی طرف سے ونڈ فارمز، سولر پینلز اور الیکٹرک کاروں کو فروغ دینے کے لیے واشنگٹن کے پیسے اور ریگولیٹری ذرائع کے استعمال کے خلاف چار سال تک احتجاج کیا، تاہم اب صدر ٹرمپ تیل، قدرتی گیس، کوئلے اور جوہری توانائی کے سلسلے میں اسی طاقتور وفاقی ذرائع کا استعمال کر رہے ہیں اور ان کی پارٹی اس پر خوشی منا رہی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا امریکا کا سفر کرنے والے ہر فرد پر 250 ڈالرز اضافی رقم عائد کرنے کا فیصلہ
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا میں کاروبار کرنے والے ممالک پر ٹیرف کم کر دیں گے، جاپان نے مذاکرات کر کے ٹیرف 15 فی صد پر لانے پر اتفاق کیا، یورپی یونین سے بھی ٹیرف کے معاملے پر سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں، چین کے ساتھ معاہدہ مکمل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔
انھوں نے مزید کہا ہم تیل کی قیمت مزید نیچے لانا چاہتے ہیں، توانائی پر مختلف ایشیائی ممالک کے ساتھ معاہدے کر رہے ہیں۔