غزہ جنگ بندی: حماس نے معاہدے کیلیے اسرائیلی تجویز پر جواب دے دیا

فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کیلیے اسرائیلی تجویز پر اپنا جواب دے دیا۔
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کیلیے تجویز پر حماس کا جواب ملا ہے جس کا جائزہ لے رہے ہیں۔
حماس کی جانب سے اسرائیلی تجویز پر جواب ثالثوں کو جمع کروایا گیا جس کا متن ظاہر نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’حماس دوبارہ اسرائیل پر حملہ کرنے کیلیے غزہ میں رہنا چاہتی ہے‘
واضح رہے کہ 8 جولائی 2025 کو اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور قطر میں ہوا تھا جس میں فریقین کے درمیان معاہدے کی کوششوں کیلیے بالواسطہ بات چیت ہوئی تھی۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ امریکی خصوصی ایلچی وٹکوف اس ہفتے کے آخر میں دوحہ روانہ ہوں گے اور اسرائیل حماس مذاکرات میں شامل ہوں گے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر کے ساتھ عشائیے کے موقع پر اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ فلسطینی پناہ گزینوں کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، تاہم انھوں نے فلسطینی ریاست کی توثیق سے انکار کیا۔
نیتن یاہو نے کہا تھا کہ وہ معاہدہ ابراہیم کو وسعت دینا چاہتے ہیں، میرے خیال میں فلسطینیوں کو خود پر حکومت کرنے کے تمام اختیارات ہونے چاہئیں، لیکن کسی بھی طاقت سے ہمیں خطرہ نہیں ہونا چاہیے، اس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ طاقتیں، جیسے مجموعی سیکیورٹی ہمیشہ ہمارے ہاتھ میں رہے گی۔