سینیٹ الیکشن میں نشان لگے بیلٹ پیپر دینے کی خبروں کی حقیقت سامنے آگئی

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں ارکان کو پہلے سے نشان لگے بیلٹ پیپر دینے کی خبروں پر ردعمل دے دیا۔
ترجمان الیکشن کمیشن نے بتایا کہ سینیٹ الیکشن میں ارکان کو قانون کے مطابق بیلٹ پیپر مہیا کیے جاتے رہے، پہلے سے نشان لگے بیلٹ پیپر دینے کی خبروں میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ الیکشن کے مکمل نتائج جاری
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ارکان نے پولنگ بوتھ میں مرضی کے مطابق نشان لگا کر بیلٹ پیپر بکس میں ڈالے، سینیٹ الیکشن میں بیلٹ بکس سب کے سامنے پڑا رہا۔
انہوں نے بتایا کہ پولنگ کے دوران امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس نے کوئی اعتراض نہیں کیا، سینیٹ انتخابات آئین و قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ انداز میں کرائے گئے۔
واضح رہے کہ سینیٹ الیکشن میں مجموعی طور پر 143 ووٹ کاسٹ ہوئے۔ خواتین کی نشست پر پی ٹی آئی کی روبینہ ناز نے 89 ووٹ حاصل کیے، پیپلزپارٹی کی روبینہ خالد نے 52 ووٹ حاصل کیے، خواتین کی نشست پر عائشہ بانو اور ماہ وش علی خان کوئی ووٹ حاصل نہ کر سکیں۔
جنرل نشست پر پی ٹی آئی کے مراد سعید 26، فیصل جاوید 22 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، جنرل نشست پر مرزا آفریدی 21 اور نور الحق قادری 21 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔
جنرل نشست پر جے یو آئی کے عطا الحق درویش 18، ن لیگ کے نیاز احمد 18 ووٹ لیکر کامیاب ہوئے، جنرل نشست پر پیپلزپارٹی کے طلحہٰ محمود 17 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے۔
جنرل نشست پر آصف رفیق، اظہرقاضی مشوانی، خرم ذیشان، دلاورخان ووٹ نہ لے سکے، شفقت ایاز، عرفان سلیم، فیض الرحمان، وقاص اوکرزئی ووٹ نہ لے سکے۔
ٹیکنوکریٹ نشست پر اعظم سواتی 89 اور جے یو آئی کے دلاور خان 54 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے، خالد مسعود، ارشاد حسین، نور الحق قادری، وقار احمد قاضی کوئی ووٹ حاصل نہ کر سکے۔