آٹو مینوفیکچررز کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی، عدالت نے حکومت کو اضافی کسٹم ڈیوٹی وصولی سے روک دیا

کراچی: آٹو مینوفیکچررز کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی پر کیس کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے وفاقی حکومت کو اضافی کسٹم ڈیوٹی وصولی سے روک دیا۔
تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں آج جمعرات کو آٹو مینوفیکچرز کی اضافی کسٹم ڈیوٹی کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے وفاقی حکومت کو درخواست گزاروں سے اضافی کسٹم ڈیوٹی کی وصولی سے روک دیا، اور درخواست گزار کو ٹیکس کے فرق سے متعلق کارپوریٹ گارنٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت نے کنسائنمنٹ اور پرزہ جات کی امپورٹ پر اضافی 2 فی صد کسٹم ڈیوٹی عائد کی ہے، اور آٹو موبائل ڈیولپمنٹ پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو رعایت فراہم کی تھی، معاہدے کے تحت یہ رعایت 5 سال تک موجود رہے گی۔
وکیل نے مزید بتایا کہ پالیسی کے مطابق آٹو مینوفیکچرنگ کے لیے مجموعی طور پر ڈیوٹی کی حد 25 فی صد رکھی گئی تھی، 2 فی صد اضافی کسٹم ڈیوٹی کے بعد یہ حد ختم ہو جائے گی، لیکن سرمایہ کاروں کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے، اس صورت حال سے ملک میں سرمایہ کاری متاثر ہوگی۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے اسی نوعیت کے دیگر درخواستوں میں اضافی ٹیکس کے خلاف حکم امتناع جاری کیا ہے۔
عدالت نے ایک موقع پر کہا کہ درخواست گزار کو پہلے عبوری طور پر ڈیوٹی کا جائزہ لینا چاہیے تھا، وکیل نے کہا درخواست گزار نے ایس آر او کو چیلنج کیا ہے، بعد ازاں عدالت نے درخواستوں کی سماعت 19 اگست تک ملتوی کر دی۔