ٹاپ نیوز

یو این 80 اقدام کے تحت پائیدار ترقی کے اہداف کے بروقت حصول کیلئے اجتماعی وابستگی کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا، پاکستان 2030 کے ایجنڈے کے حصول کیلئے پوری طرح پرعزم ہے، اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے قیام کی 80 ویں سالگرہ مناتے ہوئے سیکرٹری جنرل کا یو این 80 اقدام اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اقوام متحدہ کے تین ستونوں کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے بروقت حصول کیلئے اپنی اجتماعی وابستگی کا ازسرنو جائزہ لیں، چیلنجوں کے باوجود پاکستان 2030 کے ایجنڈے کے حصول کیلئے پوری طرح پرعزم ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار اعلیٰ سطحی سیاسی فورم (ایچ ایل پی ایف) کے جنرل مباحثے کے دوران اپنے خطاب میں کیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ 2030ء میں صرف پانچ سال باقی ہیں اور اس وقت تک صرف 35 فیصد پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) درست سمت میں ہیں، عالمی وبا، خوراک، ایندھن اور مالیاتی بحرانوں کے مشترکہ اثرات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات نے ترقی کے مشکل سے حاصل کردہ ثمرات کو پلٹ دیا ہے اور عدم مساوات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان چیلنجوں کے باوجود پاکستان 2030ء کے ایجنڈے کے حصول کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔انہوں نے اعلیٰ سطحی سیاسی فورم (ایچ ایل پی ایف) کے جنرل مباحثے سے خطاب میں کہا کہ اڑان پاکستان جیسی ہماری قومی ترقیاتی حکمت عملیاں پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ ہماری سماجی تحفظ کی سکیمیں جن میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بینظیر نشوونما (بچوں کی نشوونما کے پروگرام) شامل ہیں، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ترتیب دیئے گئے ہیں کہ کوئی بھی پیچھے نہ رہ جائے۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہم نے ڈیجیٹل یوتھ حب کا آغاز کیا ہے ،دانش سکولوں اور نئی جامعات کے کیمپسز کے ذریعے معیاری تعلیم تک رسائی کو وسعت دے رہے ہیں۔

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم موسمیاتی تبدیلی کے خلاف اقدامات کو بڑھا رہے ہیں جس میں 2030ء تک 60 فیصد قابل تجدید توانائی کے ہدف کا حصول شامل ہے، اس کے علاوہ ریچارج پاکستان اور لیونگ انڈس جیسے اقدامات کے ذریعے اپنی مزاحمتی صلاحیت کو مضبوط کیا جا رہا ہے، ہمارا نیا قومی سطح پر مقرر کردہ موسمیاتی عزم (این ڈی سی) آخری مراحل میں ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے مالیاتی استحکام کے لیے کلیدی معاشی اصلاحات متعارف کرائی ہیں اور سرمایہ کاری کے لیے ماحول کو مزید سازگار بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپیشل انویسٹمنٹ فسیلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) ترجیحی شعبوں میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ قومی سطح کی کوششیں اہم ہیں لیکن یہ تنہا کافی نہیں ہو سکتیں، جیسا کہ سیکرٹری جنرل نے درست طور پر نشاندہی کی ہےکہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات ناگزیر ہیں،ترقی پذیر ممالک کو رعایتی اور گرانٹ پر مبنی وسائل تک وسیع رسائی، قرضوں میں ریلیف اور موسمیاتی فنانس میں اضافہ درکار ہے تاکہ وہ پائیدار ترقی کے اہداف کی مالی ضروریات کو پورا کر سکیں۔

انہوں نے کمپرومیسو ڈی سیویل جو چوتھی عالمی کانفرنس برائے مالیاتی ترقی میں منظور کیا گیا، ایک واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے، اس پر عمل درآمد میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا کہ جیسا کہ ہم اقوام متحدہ کے قیام کی 80 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، سیکرٹری جنرل کا یو این 80 اقدام ہمیں ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اقوام متحدہ کے تین ستونوں کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کے اہداف کے بروقت حصول کے لیے اپنی اجتماعی وابستگی کا ازسرنو جائزہ لیں۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button