قومی

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس، لاپتا افراد کے معاملے پر ادارہ جاتی رسپانس کیلئے کمیٹی قائم

قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس میں لاپتا افراد کے معاملے پر ادارہ جاتی رسپانس کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کردی گئی۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیرصدارت قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں تمام ہائیکورٹس کےچیف جسٹس، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق قومی عدالتی پالیسی سازکمیٹی نے لاپتا افراد کے معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور لاپتا افراد کے معاملے پرادارہ جاتی رسپانس کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی قائم کی گئی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ لاپتہ افراد سے متعلق اعلیٰ سطح کمیٹی معاملے پر ایگزیکٹو کے تحفظات پر بھی غور کرے گی اور کہا گیا کہ عدلیہ بنیادی حقوق کے معاملے پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں جوڈیشل افسران کو بیرونی مداخلت سے تحفظ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ہائیکورٹس میں جوڈیشل افسران کو بیرونی مداخلت سے تحفظ کے ڈھانچے کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور بیرونی مداخلت کی شکایات متعلقہ فورم پر کی جائے گی، جوڈیشل افسران کی بیرونی مداخلت کی شکایات کا مقررہ ٹائم فریم میں ازالہ کیا جائے گا، ہائیکورٹ کو ہدایت کی کہ وہ رپورٹنگ اور شکایات کے ازالے کیلئے مربوط نظام وضع کریں۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ تجارتی مقدمات کے فوری حل کیلئے کمرشل لیٹگیشن کوریڈور کے قیام اور فوری انصاف کے عزم کے تحت ڈبل ڈاکٹ کورٹ رجیم آزمائشی طور پر نافذ کرنے کی منظوری دی گئی۔ اعلامیے کے مطابق مالیاتی و ٹیکس معاملات سے متعلق آئینی درخواستیں ہائیکورٹس میں ڈویژن بینچز کے ذریعے سنی جائیں گی جبکہ اجلاس میں فوجداری مقدمات کے التوا کو کم کرنے کیلئے ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹس کا فریم ورک منظور کرلیا گیا۔

ضلعی عدلیہ میں یکسانیت اور اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کیلئے کمیٹی کے سربراہ جسٹس (ر) رحمت حسین ہوں گے، چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ، رجسٹرارز ہائیکورٹس اور فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل شامل ہوں گے۔

ججز کیلئے وکلا کی بھرتی کیلئے پروفیشنل ایکسیلنس انڈیکس کی تیاری کی منظوری بھی دی گئی جبکہ کمیٹی نے پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل کی اصلاحات پر مبنی تفصیلی پریزنٹیشن کو سراہا۔

زیر سماعت قیدیوں اور سرکاری گواہوں کی حاضری کیلئے ویڈیو لنک کے ایس او پیز جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جوڈیشل اکیڈمیز پولیس افسران کیلئے تربیت کا انعقاد کریں گی۔

متعلقہ آرٹیکل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button