امریکی و میکسیکن نومنتخب صدور کا ٹیلی فونک رابطہ،سرحدی صورتحال پر بیانات میں اختلاف

امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پڑوسی ملک میکسیکو کی صدر کلاڈیا شئین بام کے درمیان ٹیلیفونک رابطے کے بعد دونوں طرف کے بیانات میں مختلف مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میکسیکو کی صدر نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ اپنے ملک سے امریکا کی طرف جانے والے پناہ گزینوں کو روکیں گی،تاہم میکسیکن صدر نے اس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ میکسیکو کی پوزیشن یہ ہے کہ سرحدیں بند نہیں کی جاتیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر کہا کہ ابھی میکسیکو کی نئے صدر کے ساتھ زبردست بات چیت ہوئی۔انہوں نے پڑوسی ملک کی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ میکسیکو سے امریکا کی طرف ہجرت روکنے پر رضامند ہو گئیں اور ہماری جنوبی سرحد کو مؤثر طریقے سے بند کر رہی ہیں۔
دوسری طرف صدر کلاڈیا شئین بام نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا فوری جواب دیا اور اس بات پر اصرار کیا کہ انہوں نے میکسیکو سے امریکا کی جانب ہجرت کی موجودہ جامع حکمت عملی کی وضاحت کی ہے جس کی بدولت تارکین وطن کی سرحد پر پہنچنے سے پہلے دیکھ بھال کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ میکسیکو کا موقف سرحدوں کو بند کرنا نہیں بلکہ حکومت اور عوام کے درمیان پل بنانا ہے۔
اکتوبر میں میکسیکو کی پہلی خاتون صدر بننے والی کلاڈیا شئین بام نے اس سے قبل فون کال کے دوران مسکراتے ہوئے اپنی تصویر کے ساتھ گفتگو کی مختصر تفصیلات بھی شیئر کی تھیں۔شئین بام نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے سکیورٹی کے معاملات پر تعاون کو مضبوط بنانےکے ساتھ میکسیکو میں منشیات کے استعمال کو روکنے کی مہم بارے بھی تبادلہ خیال کیا۔